Friday, 22 October 2021

منا لو جشن کہ یہ جنگ جیت لی تم نے

 منا لو جشن کہ یہ جنگ جیت لی تم نے

وہ حرفِ لوحِ جہاں سے مٹا دیا آخر

جسے تمہاری نگاہیں غلط سمجھتی تھیں

مسل کے پھول سمجھتے ہو، مر گئی خوشبو

مٹا کے حرف سمجھتے ہو داستان نہ رہی

بدن کو مار کے خوش ہو کہ کھیل ختم ہوا

منا لو جشن مگر اتنی بات یاد رہے

کہ پھول مرتا ہے خوشبو کو موت آتی نہیں

کہانی ختم بھی ہو جائے دل میں رہتی ہے

بدن مرے تو مرے، روح مر نہیں سکتی

وہ شخص دار پہ تم نے چڑھا دیا جس کو

بدن کی موت سے وہ شخص مر نہیں سکتا

وہ آنسوؤں میں ہے لرزاں، دلوں میں زندہ ہے

گلی گلی میں ہے چرچا ہے ذکرِ عام اس کا

وہ پہلے ایک تھا اب بٹ گیا ہزاروں میں

وہ پھول بن کے کھلے گا صدا بہاروں میں

وہ شخص دار پہ تم نے چڑھا دیا ہے جسے

جوان و پیر و زن و طفل پیار کرتے ہیں

بہ صد خلوص دل و جاں نثار کرتے ہیں

وہ شخص دار پہ تم نے چڑھا دیا ہے جسے

دل و نظر میں لرزتی ہیں اس کی تصویریں

ورق ورق پہ چمکتی ہیں اس کی تحریریں

بدن کو مار کے خوش ہو کہ کھیل ختم ہوا

نہیں، یہ وہم و گماں ہے، نظر کا دھوکہ ہے

وہ دیکھو بپھری ہوئی بے نواؤں کی ٹولی

ہتھیلیوں پہ دھرے نقدِ جاں نکل آئی

وہ عورتوں کے کھلے سر، وہ ماتمی چہرے

ہجوم خورد و کلاں بن کے آہنی دیوار

رواں ہے جانبِ مقتل علم اُٹھائے ہوئے

لبوں پہ نام اسی شخص کا سجائے ہوئے

وہ شخص دار پہ تم نے چڑھا دیا ہے جسے

وہ جا چکا ہے مگر درس دے گیا ہے ہمیں

کہ جرأتوں سے قدم یوں اٹھائے جاتے ہیں

جھکائے جاتے نہیں سر، کٹائے جاتے ہیں

منا لو جشن کہ یہ جنگ تم نے جیتی ہے

بدن وہ ہار گیا تم نے روح ہاری ہے

منا لو جشن کے کل تم پہ سخت بھاری ہے

گیا ہے آج وہ اور کل تمہاری باری ہے


احمد عقیل روبی

No comments:

Post a Comment