Tuesday, 14 September 2021

ہم جو بے پرسش احوال پڑے رہتے ہیں

 ہم جو بے پرسشِ احوال پڑے رہتے ہیں

تال ملتی نہیں، بے تال پڑے رہتے ہیں

عاشقی لفظ تغیّر سے شناسا کب ہے

ایک لمحے میں مہ و سال پڑے رہتے ہیں

یہ محافل کے تقدس کی عملداری ہے

ہم سے خود سر، سرِ پاتال پڑے رہتے ہیں

حجرۂ عشق سے ملتی ہے یقیں کی دولت

کاسۂ عقل میں اشکال پڑے رہتے ہیں

تیری یادوں کے توسط سے سرہانے میرے

میر اور غالب و اقبال پڑے رہتے ہیں


عقیل اختر

No comments:

Post a Comment