اب ہجر نبھانے کی ترکیب الگ ہو گی
دُکھ سارے وہی ہوں گے ترتیب الگ ہو گی
ویسے تو زمانے میں لاکھوں ہی مثالیں ہیں
ہم سُولی چڑھیں گے جب تقریب الگ ہو گی
کچھ یار کی بستی میں آنکھوں سے اُجالے ہیں
جگ مگ کو ستاروں کی تنصیب الگ ہو گی
ہم خانہ بدوشوں نے بس اس لیے ہجرت کی
سوچا تھا کہ گاؤں کی تہذیب الگ ہو گی
دشمن کے خرابے سے کچھ خاص نہیں ہوتا
اپنے جو کریں گے اب تخریب الگ ہو گی
اس پہلی محبت میں قاسم کی بھی سُن لینا
جو خود وہ دلائے گا ترغیب الگ ہو گی
قاسم رضا مصطفائی
No comments:
Post a Comment