Tuesday, 14 September 2021

عالم رنگ و بو ہمارا ہے

عالمِ رنگ و بُو ہمارا ہے

اور خالی سُبو ہمارا ہے

اک زمانے سے پیار ہے ہم کو

اک زمانہ عدو ہمارا ہے

ہم اُسی آگ سے ہیں وابستہ

ہاں وہی شعلہ رُو ہمارا ہے

تم بتاؤ کہ چاندنی کے سِوا

کیا لبِ آب جُو ہمارا ہے

کس کو درکار ہیں یہ کون و مکاں

ہم تو خوش ہیں کہ تُو ہمارا ہے

عشق نے جو تمہارا حال کیا

بس وہی ہُو بُہو ہمارا ہے

وہ بھی کہتا ہے بُت پرست ہمیں

جو نماز و وضو ہمارا ہے

پیرہن میں ترے ہے گُل کی مہک

اور گُل میں لہو ہمارا ہے

بات اب کی نہیں ازل سے ہے طے

تیغ تیری ، گلو ہمارا ہے

لوگ اُس کی طرف ہیں کیوں معصوم

ذکر تو چار سُو ہمارا ہے


اکبر معصوم

No comments:

Post a Comment