چمن میں پھول کے خوشبو لٹانے پر ہے پابندی
ہواؤں کے تِرے کوچے سے آنے پر ہے پابندی
دلوں میں نفرتیں پالو اجازت ہے یہ دنیا میں
مگر دل میں محبت کو بسانے پر ہے پابندی
محبت کو دبا دو ضبط کے شہرِ خموشاں میں
ستمگاروں میں زخمِ دل دِکھانے پر ہے پابندی
بہاروں کے زمانے میں خزاں نے سر اٹھایا ہے
عنادل کے چمن میں گیت گانے پر ہے پابندی
سفیرانِ محبت اب ہمیشہ بچ کے چلتے ہیں
کہ عشبہ عشق کا جذبہ دِکھانے پر ہے پابندی
عشبہ تعبیر
No comments:
Post a Comment