Tuesday, 14 September 2021

دشت میں اشکوں سے اک بادل بنانا عشق ہے

 دشت میں اشکوں سے اک بادل بنانا عشق ہے

یاد رہنا، یاد کرنا، یاد آنا، عشق ہے

تندئ بادِ اذیت دشمنِ جاں ہو، مگر

خاکِ ہستی میں چراغِ دل جلانا عشق ہے

اپنی آنکھوں کو ہتھیلی پر سجا کر رات بھر

راہ گھر کی، ننھی چڑیا کو دکھانا عشق ہے

عین شین اور قاف ماتھے پر ابھر کر آ گیا

ہائے دل میرا، کہ یہ پھر بھی نہ مانا، عشق ہے

کیف سے سرشار رہنا اور کہنا؛ الاحد

زخمِ دل پر ہاتھ رکھ کر مسکرانا عشق ہے

ہجر کی پر چھائی بھی اس آستاں سے دور ہو 

ہاں اسے اس ہی کی خاطر بھول جانا عشق ہے

ایک لمحے کی خطا پر چشمِ شب بیدار کا 

روئے جانا، روئے جانا، روئے جانا عشق ہے

اپنے کندھوں پر مسلط بارِ غم کے باوجود

آدمی کا دوسروں کے غم اٹھانا عشق ہے

صائمِ نغمہ طراز اک سرِ الفت جان لے

میری غزلوں کا تیرے ہونٹوں تک آنا عشق ہے


عبدالباسط صائم

No comments:

Post a Comment