Tuesday, 14 September 2021

چشم ستارہ دار سے باہر نکلنا ہے

 چشمِ ستارہ دار سے باہر نکلنا ہے

اس دشتِ بے کنار سے باہر نکلنا ہے

کب تک رہوں گا میں تِرے برفاب شہر میں

مجھ کو کسی شرار سے باہر نکلنا ہے

اطراف میں رُکے ہوئے لشکر کے واسطے

اس جسم کے حصار سے باہر نکلنا ہے

مجھ کو کنویں سے کھینچنے والوں کو کیا پتہ

میں اپنے اختیار سے باہر نکلنا ہے

آنکھوں کو راستے پہ بچھائیں گے کب تلک

اب شہرِ انتظار سے باہر نکلنا ہے


تنویر سیٹھی

No comments:

Post a Comment