نہیں ہے خوفِ خدا، خوف ہے خدائی کا
یہی سبب ہے دعاؤں کی نارسائی کا
عجیب غم تھا قفس سے لِپٹ کے رونے لگے
تمہارے بعد ملا حکم جب رہائی کا
بچھڑتے وقت اسے ہنس کے کر دیا رُخصت
مگر ملال رہا عمر بھر جدائی کا
یوں عجلتوں میں تعلق نبھائے جاتے رہے
وفا کا وقت ملا اور نہ بے وفائی کا
جہانِ حُسن میں دو ہی تو بس حوالے ہیں
تیری کلائی یا کنگن تِری کلائی کا
علی قائم نقوی
No comments:
Post a Comment