ہر بیٹی کی ماں کے نام
نہ سیدھی ہے
نہ سادی ہے
نہ ہی وہ صنفِ نازک ہے
اسے میں نے بتایا ہے
کہ دنیا اک میدانِ جنگ ہے
اور وہ ہمیشہ حالتِ جنگ میں رہے گی
اسے خود پہ بھروسہ کر کے جینا ہے
اسے یہ یاد رکھنا ہے
کہ محتاجی جہنم ہے
وہ پڑھتی ہے
وہ بینکر ہے
وہ اپنے گھر کا سارا کام کرتی ہے
وہ فارغ وقت میں اپنے مشاغل بھی نبھاتی ہے
میں اس سے دور ہو جاؤں
یا مر جاؤں
تو نہ گھُٹ گھُٹ کے روئے گی
نہ اپنے آپ کو مظلوم اور برباد سمجھے گی
میں اک ماں ہوں
مجھے معلوم ہے کہ میری بیٹی
اک بہت مضبوط انساں ہے
ثمینہ تبسم
No comments:
Post a Comment