مجھے اتنی اجازت دو
مجھے اتنی اجازت دو
کہ میں اپنے سلگتے ہونٹ کھولوں
اور اپنی روح کی ان کرچیوں کو
جوڑوں ایسے
کہ صدیوں کی بنی دیوار آہن
توڑ ہی ڈالوں
اور اک سچ لکھوں ایسے
جسے بھیجوں ہواؤں کو
اور بادل مجھ سے لے جائیں
کہ میرا اک وہ احساس
جو صدیوں پہ بھاری ہے
اسے بس اک زباں تو دے سکوں میں
میں اپنے نام کو پہچان تو لوں
کہ میں مریم و حوا کی بیٹی
بہت ہی معتبر ہیں نام میرے
اگر کوئی یہ سمجھے
اگر کوئی یہ جانے
شہناز نقوی
No comments:
Post a Comment