Monday, 7 June 2021

مجھے اتنی اجازت دو کہ میں اپنے سلگتے ہونٹ

 مجھے اتنی اجازت دو


مجھے اتنی اجازت دو

کہ میں اپنے سلگتے ہونٹ کھولوں

اور اپنی روح کی ان کرچیوں کو

جوڑوں ایسے

کہ صدیوں کی بنی دیوار آہن

توڑ ہی ڈالوں

اور اک سچ لکھوں ایسے

جسے بھیجوں ہواؤں کو

اور بادل مجھ سے لے جائیں

کہ میرا اک وہ احساس

جو صدیوں پہ بھاری ہے

اسے بس اک زباں تو دے سکوں میں

میں اپنے نام کو پہچان تو لوں

کہ میں مریم و حوا کی بیٹی

بہت ہی معتبر ہیں نام میرے

اگر کوئی یہ سمجھے

اگر کوئی یہ جانے


شہناز نقوی

No comments:

Post a Comment