Monday, 5 June 2023

غم محبت میں دل کے داغوں سے روکش لالہ زار ہوں میں

 غم محبت میں دل کے داغوں سے روکش لالہ زار ہوں میں

فضا بہاریں ہے جس کے جلووں سے وہ حریف بہار ہوں میں

کھٹک رہا ہوں ہر اک کی نظروں میں بچ کے چلتی ہے مجھ سے دنیا

زہے گراں باریٔ محبت کہ دوشِ ہستی پہ بار ہوں میں

کہاں ہے تو وعدۂ وفا کر کے او مِرے بھول جانے والے

مجھے بچا لے کہ پائمال قیامت انتظار ہوں میں

تِری محبت میں میرے چہرے سے ہے نمایاں جلال تیرا

ہوں تیرے جلووں میں محو ایسا کہ تیرا آئینہ دار ہوں میں

وہ حسن بے التفات اے تاجور! ہوا التفات فرما

تو زندگی اب سنا رہی ہے کہ عمر بے اعتبار ہوں میں


تاجور نجیب آبادی

احسان اللہ خان درانی

No comments:

Post a Comment