Monday, 5 June 2023

وفا نا آشناؤں میں وفا کی جستجو کب تک

 وفا نا آشناؤں میں وفا کی جستجو کب تک

دل سادہ مجھے رسوا کرے گا کو بہ کو کب تک

ہوا ہے چاک جن ہاتھوں سے امیدوں کا پیراہن

انہیں ہاتھوں کو ہم دیتے رہیں داد رفو کب تک

بہر صورت دعاؤں پر مقدم ہے عمل زاہد

خمیدہ سر کہاں تک ہاتھ مصروف وضو کب تک

ہمیں اپنا مقدر اپنے ہاتھوں سے بنانا ہے

کہاں تک خود فراموشی فریب آرزو کب تک

بہاروں کو ترس جائے گا گلشن ہم نہ کہتے تھے

خزاں پروردہ ہاتھوں میں جہان رنگ و بو کب تک

کہاں تک عصمتیں نیلام ہوں گی بے سہاروں کی

بہے گا شاہراہوں پہ غریبوں کا لہو کب تک

زمیں پھٹ جائے یا سر پر بلائے آسماں ٹوٹے

زباں بھی کھولیے فرحت نظر سے گفتگو کب تک


خلیل فرحت کارنجوی

No comments:

Post a Comment