نئی غزل نئے لہجے کی آبرو ہم تھے
وہ ایک دور تھا موضوعِ گفتگو ہم تھے
کسی نے پچھلے پہر نیند سے جگایا ہمیں
جو آنکھ میچ کے دیکھا تو ہو بہو ہم تھے
تمہاری شمع ہدایت تو جل بجھی تھی مگر
تمام رات ہواؤں کے رو برو ہم تھے
تڑپ رہے تھے جبینِ نیاز میں سجدے
مگر وہ پاس سے گزرا تو بے وضو ہم تھے
کوئی نہیں تھا تمہارے سوا غالب
یہ اور بات ہے اختر کبھو کبھو ہم تھے
اختر جمال
No comments:
Post a Comment