Sunday, 21 November 2021

جھلستی دوپہر میں تو نے انسان کو بچایا ہے

عارفانہ کلام نعتیہ کلام


جھلستی دوپہر میں تُو نے انسان کو بچایا ہے​

تو پھر اس میں غلط کیا ہے کہ تُو رحمت کا سایہ ہے​

دلوں کو جوڑ کر تُو نے محبت کی طرح ڈالی​

مٹا کر غیریت کو پیار کا جادو جگایا ہے​

تِرے نقشِ کفِ پا نے سرِ صحرائے بے پایاں​

جو رستہ بھول بیٹھے تھے انہیں رستہ دکھایا ہے

​جہاں ڈوبا ہوا تھا خامشی کے اک سمندر میں

​تِری آواز کی ہر موج نے طوفاں اٹھایا ہے​

تِری ضو سے چمک اٹھی جبینِ آدمِ خاکی​

تُو وہ خورشید ہے جو تیرگی میں مسکرایا ہے​

سکھایا ہے تجھی نے زندگی کا ڈھنگ عالم کو​

چراغِ رہگزر ایسا یہاں کس نے جگایا ہے​

غزل میں اس کی شانِ دلبری تجھ کو بتاؤں کیا​

زمانے میں تھے ہم کافر ہمیں مومن بنایا ہے​

سارا غزل

No comments:

Post a Comment