Monday, 17 May 2021

وہی آنگن وہی کھڑکی وہی در یاد آتا ہے

 وہی آنگن وہی کھڑکی وہی در یاد آتا ہے

اکیلا جب بھی ہوتا ہوں مجھے گھر یاد آتا ہے

مِری بے ساختہ ہچکی مجھے کھُل کر بتاتی ہے

تِرے اپنوں کو گاؤں میں تُو اکثر یاد آتا ہے

جو اپنے پاس ہوں ان کی کوئی قیمت نہیں ہوتی

ہمارے بھائی کو ہی لو، بچھڑ کر یاد آتا ہے

مئی اور جون کی گرمی بدن سے جب ٹپکتی ہے

نومبر یاد آتا ہے،۔ دسمبر یاد آتا ہے


آلوک شریواستو

No comments:

Post a Comment