کر دیا خود کو سمندر کے حوالے ہم نے
تب کہیں گوہرِ نایاب نکالے ہم نے
زندگی نام ہے چلنے کا تو چلتے ہی رہے
رُک کے دیکھے نہ کبھی پاؤں کے چھالے ہم نے
جب سے ہم ہو گئے درویش تِرے کوچے کے
تب سے توڑے نہیں سونے کے نوالے ہم نے
تیری چاہت سی نہیں دیکھی کسی کی چاہت
ویسے دیکھے ہیں بہت چاہنے والے ہم نے
ہمسفر تُو جو رہا ہم بھی اُجالے میں رہے
پھر تِرے بعد کہاں دیکھے اُجالے ہم نے
ایک بھی شعر گُہر بن کے نہ چمکا افضل
کتنے دریائے خیالات کھنگالے ہم نے
افضل الہ آبادی
No comments:
Post a Comment