Sunday, 4 April 2021

کر دیا خود کو سمندر کے حوالے ہم نے

 کر دیا خود کو سمندر کے حوالے ہم نے

تب کہیں گوہرِ نایاب نکالے ہم نے

زندگی نام ہے چلنے کا تو چلتے ہی رہے

رُک کے دیکھے نہ کبھی پاؤں کے چھالے ہم نے

جب سے ہم ہو گئے درویش تِرے کوچے کے

تب سے توڑے نہیں سونے کے نوالے ہم نے

تیری چاہت سی نہیں دیکھی کسی کی چاہت

ویسے دیکھے ہیں بہت چاہنے والے ہم نے

ہمسفر تُو جو رہا ہم بھی اُجالے میں رہے

پھر تِرے بعد کہاں دیکھے اُجالے ہم نے

ایک بھی شعر گُہر بن کے نہ چمکا افضل

کتنے دریائے خیالات کھنگالے ہم نے


افضل الہ آبادی

No comments:

Post a Comment