Sunday, 4 April 2021

نت نئے رنگ کے نغمات سے جی ڈرتا ہے

نت نئے رنگ کے نغمات سے جی ڈرتا ہے

اب تو اس شہر خرابات سے جی ڈرتا ہے

نیند کا لطف نہ بیداریٔ شب کی لذت

ذہن میں جاگتے خدشات سے جی ڈرتا ہے

شب کی پیشانی پہ لکھی ہوئی تحریر کبھی

دیکھ لیتے ہیں تو ہر بات سے جی ڈرتا ہے

خامشی محو تماشائے خرد ہے لیکن

اس میں پوشیدہ سوالات سے جی ڈرتا ہے

جن پہ معمور کیے جانے لگے آدم خور

ایسے خوں ریز مقامات سے جی ڈرتا ہے

جن سے تشکیل ہوئی ظلمت نو کی تنویر

ان سیہ کاریٔ حالات سے جی ڈرتا ہے


عباس رضا تنویر

No comments:

Post a Comment