نت نئے رنگ کے نغمات سے جی ڈرتا ہے
اب تو اس شہر خرابات سے جی ڈرتا ہے
نیند کا لطف نہ بیداریٔ شب کی لذت
ذہن میں جاگتے خدشات سے جی ڈرتا ہے
شب کی پیشانی پہ لکھی ہوئی تحریر کبھی
دیکھ لیتے ہیں تو ہر بات سے جی ڈرتا ہے
خامشی محو تماشائے خرد ہے لیکن
اس میں پوشیدہ سوالات سے جی ڈرتا ہے
جن پہ معمور کیے جانے لگے آدم خور
ایسے خوں ریز مقامات سے جی ڈرتا ہے
جن سے تشکیل ہوئی ظلمت نو کی تنویر
ان سیہ کاریٔ حالات سے جی ڈرتا ہے
عباس رضا تنویر
No comments:
Post a Comment