Sunday, 4 April 2021

بسمل شوق نہ کیوں شور مچائے ہائے

 بسملِ شوق نہ کیوں شور مچائے ہائے

گھائل اتنا ہے کہ اب سانس نہ آئے ہائے

دید کی تاب نہ ہو، قوتِ اظہار نہ ہو

ایسی مشکل میں نہ کیوں آنکھ بھر آئے ہائے

ایک مجبور بِلکتا رہا بھُوکا، پیاسا

دیکھنے والو‌ں نے بس فوٹو بنائے، ہائے

ہر طرف خوف ہے، مجبوری و لاچاری ہے

کوئی امید نہ جینے کی بر آئے، ہائے

اب نہ پہلے سے مراسم ہیں نہ پہلا سا خلوص

یادِ رفتہ کو یہ دل کیسے بھلائے، ہائے

ہائے خواہش کہ پڑھوں شعر کوئی محفل میں

سامنے بیٹھ کے وہ مصرع اٹھائے، ہائے

سرسری پوچھا تھا؛ کیا آپ بھی شاعر ہیں جناب؟

اس نے برجستہ کئی شعر سنائے، ہائے

کیجیے جس سے بھی اظہار محبت کا سمیؔع

خاۂ دل پہ وہی برق گرائے، ہائے

قد نکلتے ہی بدل لیتے ہیں رستہ اپنا

ایک ہی ماں کے تصوؔر سبھی جائے، ہائے


تصور سمیع

No comments:

Post a Comment