وہ دنیا کو سج کے دکھاتا رہا ہے
مِرے دل پہ ضربیں لگاتا رہا ہے
مجھے کیا خبر تھی ارادوں کی اس کے
وہ خود پر یقیں یوں دلاتا رہا ہے
خدا سے ہے مانگا اسے اس قدر کہ
وہ سجدوں میں بھی یاد آتا رہا ہے
مجھے خوف آتا نہیں اس جہاں سے
مجھے یہ زمانہ گِراتا رہا ہے
مجھے ایک غم ہے میں لائق نہیں ہوں
وہ اوروں کو یہ بھی بتاتا رہا ہے
ترس جاؤ گے تم مِری اک جھلک کو
یہ کہہ کر مجھے تو جلاتا رہا ہے
بھلا تو دیا ہے تجھے میں نے لیکن
تِرا قہقہہ یاد آتا رہا ہے
ادیبہ ملک
No comments:
Post a Comment