تم نہیں ہو ساتھ تو سارا جہاں تنہا لگے
یہ زمیں تنہا لگے،۔ یہ آسماں تنہا لگے
جب سے دل کو آ گیا تیرے نہ آنے کا یقیں
حسرتوں کی بھیڑ میں اب یہ مکاں تنہا لگے
کون جانے وحشتِ دل کو ہے کس کا انتظار
ہیں ہزاروں پھول پھر بھی گلستاں تنہا لگے
شکر ہے دردِ محبت راس مجھ کو آ گیا
زندگی کا اب کوئی لمحہ کہاں تنہا لگے
دونوں جانب ایک ہی منظر ہے فُرقت میں عیاں
میں فقط تنہا نہیں،۔ وہ بھی وہاں تنہا لگے
اتحاد باہمی جب سے نہیں ہے اے مینک
کارواں کے ساتھ میرِ کارواں تنہا لگے
مینک اکبرآبادی
کے کے سنگھ
No comments:
Post a Comment