Sunday, 4 April 2021

چراغ محبت جلانے لگے ہیں

 چراغ محبت جلانے لگے ہیں

ابھی سے قدم ڈگمگانے لگے ہیں

غمِ زندگی جب سنانے لگے ہیں

بنانے میں ہم کو زمانے لگے ہیں

بجھانے میں جس کو زمانے لگے ہیں

وہیں آگ پھر سے لگانے لگے ہیں

ذرا آگے بڑھ کے دِیا اک جلاؤ

اندھیرے بہت اب ستانے لگے ہیں

نتیجہ شرافت کا ہوتا یہی ہے

سبھی آج انگلی اٹھانے لگے ہیں


حمزہ دائم

No comments:

Post a Comment