میرے اعصاب میں اک جو فریاد تھی، وہ تِری یاد تھی
اور وہم و گماں میں جو آباد تھی، وہ تری یاد تھی
مجھ پہ طاری رہا اس کا احساس بادِ صبا کی طرح
ایسا لگتا ہے جیسے چمن زاد تھی، وہ تری یاد تھی
اب کے یوں بھی ہوا کہ سفر نے مجھے راستہ نہ دیا
فاصلوں سے، حدوں سے جو آزاد تھی، وہ تری یاد تھی
میرے احباب نے بھی کبھی نہ کیا وہ مرا ذکر تھا
تیرے عشاق کے لب پہ فریاد تھی، وہ تری یاد تھی
مرحلہ کوئی تو آئے تجدید کا پھر تیری دید کا
شام محبوس تھی، سوچ برباد تھی ، وہ تری یاد تھی
کچھ بھی کرنے کو گر ٹھان لیں تو ہمیں کچھ بھی پرواہ نہیں
میرے فکر و عمل کو جو صیاد تھی، وہ تری یاد تھی
اپنے بارے کبھی سوچتے تاج ہم بھی پہ مجبور تھے
جس نے مجنوں کیا ایک افتاد تھی، وہ تری یاد تھی
طاہر عبید تاج
No comments:
Post a Comment