Friday, 15 October 2021

ابھی تو رات آنی ہے ابھی تو دن ڈھلا ہے

 ابھی سے


ابھی سے شہر جاں میں

کیوں بھلا تنہائیوں کے سائے لرزاں ہیں

ابھی تو رات آئی ہے، ابھی تو دن ڈھلا ہے

ابھی تو خوشبوئیں بھی آہنی پردوں سے باہر ہیں

ابھی تو چہرۂ خورشید پر کافی تمازت ہے

ہوا کو بھی ابھی زنجیرِ پا کے ساتھ 

گردش کی اجازت ہے

ابھی کیوں ذکرِ شامِ غم چلا ہے

ابھی تو رات آنی ہے، ابھی تو دن ڈھلا ہے


کوثر محمود

No comments:

Post a Comment