ابھی سے
ابھی سے شہر جاں میں
کیوں بھلا تنہائیوں کے سائے لرزاں ہیں
ابھی تو رات آئی ہے، ابھی تو دن ڈھلا ہے
ابھی تو خوشبوئیں بھی آہنی پردوں سے باہر ہیں
ابھی تو چہرۂ خورشید پر کافی تمازت ہے
ہوا کو بھی ابھی زنجیرِ پا کے ساتھ
گردش کی اجازت ہے
ابھی کیوں ذکرِ شامِ غم چلا ہے
ابھی تو رات آنی ہے، ابھی تو دن ڈھلا ہے
کوثر محمود
No comments:
Post a Comment