وہ لوگ جو کھلی کتاب کی طرح نظر میں ہیں
یہ جانتے نہیں کہ احتیاط سے مفر میں ہیں
قیام کے لیے کوئی مقامِ دلبری نہیں
میں جانتا بھی ہوں کہ سارے مسئلے سفر میں ہیں
تلخیوں کے بعد کیسے کیسے رابطے ہوئے
یہ سوچ کر نبھا گئے کہ عمرِ مختصر میں ہیں
میں کیوں نہ ان کے راستے میں خاک بن کے بچھ رہوں
وہ مدتوں کے بعد پھر سے آج میرے گھر میں ہیں
اپنے گاؤں کی وہ سادہ زندگی کمال تھی
خیال آیا تاج اب، تلاشِ در بدر میں ہیں
طاہر عبید تاج
No comments:
Post a Comment