Wednesday, 9 December 2020

وہ لوگ جو کھلی کتاب کی طرح نظر میں ہیں

 وہ لوگ جو کھلی کتاب کی طرح نظر میں ہیں

یہ جانتے نہیں کہ احتیاط سے مفر میں ہیں

قیام کے لیے کوئی مقامِ دلبری نہیں

میں جانتا بھی ہوں کہ سارے مسئلے سفر میں ہیں

تلخیوں کے بعد کیسے کیسے رابطے ہوئے

یہ سوچ کر نبھا گئے کہ عمرِ مختصر میں ہیں

میں کیوں نہ ان کے راستے میں خاک بن کے بچھ رہوں

وہ مدتوں کے بعد پھر سے آج میرے گھر میں ہیں

اپنے گاؤں کی وہ سادہ زندگی کمال تھی

خیال آیا تاج اب، تلاشِ در بدر میں ہیں


طاہر عبید تاج

No comments:

Post a Comment