Thursday, 10 December 2020

شام چھت سے گھر میں اتری

معمول

 شام چھت سے گھر میں اتری

رات بن کر ایک اک کمرے میں پھیلی

وقت کو اپنی کلائی سے اتارا

اور ٹیبل پر سجا کر

میں نے آزادی کا لمبا سانس کھینچا

یاد اور خوابوں کی پتواریں سنبھالیں

کشتئ احساس کو باریک اور بد رنگ لہروں میں اتارا

صبح تک اس کشتئ احساس پر

کر کے لے آؤں گا سورج کو سوار

اور پھر میری کلائی

وقت کی پابند ہو کر

شام تک انجام دے گی

کار ہائے ناگوار


عمیق حنفی

No comments:

Post a Comment