Thursday, 10 December 2020

ایک دن میرا آئینہ مجھ کو

 ایک دن میرا آئینہ مجھ کو

مجھ سے کر جائے گا جدا مجھ کو

وہ بھی موجود تھا کنارے پر

اس نے دیکھا تھا ڈوبتا مجھ کو

غم، مصیبت، فراق، تنہائی

اس نے کیا کچھ نہیں دیا مجھ کو

پھول ہوں خاک تو نہیں ہوں میں

راس کب آئے گی ہوا مجھ کو

سیکڑوں آئینے بدل ڈالے

اپنا چہرہ نہیں ملا مجھ کو

لب پہ مہر سکوت بھی تو نہیں

کر گیا کون بے صدا مجھ کو

موت کیوں کر نجات بخشے گی

زندگی تو نے کیا دیا مجھ کو


سریندر شجر

No comments:

Post a Comment