Thursday, 10 December 2020

وہ تو گریہ بھی مسلسل نہیں ہونے دیتے

 وہ تو گریہ بھی مسلسل نہیں ہونے دیتے

یہ مرا سوگ مکمل نہیں ہونے دیتے

مجھ کو رونے بھی نہیں دیتے ہیں تنہائی میں

میری آنکھوں کو وہ بادل نہیں ہونے دیتے

تھام لیتے ہیں وہ بپھری ہوئی لہروں کو بھی

اور دریا کو بھی جل تھل نہیں ہونے دیتے

خط میں لکھتے ہی نہیں جانِ تمنا وہ کبھی

وہ خوشی سے مجھے پاگل نہیں ہونے دیتے

ہم نے کمرے میں سجا رکھی ہیں تصویریں بھی

ہم انہیں آنکھ سے اوجھل نہیں ہونے دیتے

شب تو ہوتی ہے محبت میں سحر ہوتی نہیں

وہ کئی خواب مکمل نہیں ہونے دیتے

کیونکہ خوشبو کی طرح یہ تو بکھر جائے گا

اس لئے عشق کو صندل نہیں ہونے دیتے

ان کو ڈر ہے کہ مجھے بھول نہ جائے رستہ

وہ خیالات کو جنگل نہیں ہونے دیتے

میری ہر بات ادھوری ہی پڑی ہے دلشاد

زیست میری وہ مکمل نہیں ہونے دیتے


دلشاد نسیم

No comments:

Post a Comment