وہ تو گریہ بھی مسلسل نہیں ہونے دیتے
یہ مرا سوگ مکمل نہیں ہونے دیتے
مجھ کو رونے بھی نہیں دیتے ہیں تنہائی میں
میری آنکھوں کو وہ بادل نہیں ہونے دیتے
تھام لیتے ہیں وہ بپھری ہوئی لہروں کو بھی
اور دریا کو بھی جل تھل نہیں ہونے دیتے
خط میں لکھتے ہی نہیں جانِ تمنا وہ کبھی
وہ خوشی سے مجھے پاگل نہیں ہونے دیتے
ہم نے کمرے میں سجا رکھی ہیں تصویریں بھی
ہم انہیں آنکھ سے اوجھل نہیں ہونے دیتے
شب تو ہوتی ہے محبت میں سحر ہوتی نہیں
وہ کئی خواب مکمل نہیں ہونے دیتے
کیونکہ خوشبو کی طرح یہ تو بکھر جائے گا
اس لئے عشق کو صندل نہیں ہونے دیتے
ان کو ڈر ہے کہ مجھے بھول نہ جائے رستہ
وہ خیالات کو جنگل نہیں ہونے دیتے
میری ہر بات ادھوری ہی پڑی ہے دلشاد
زیست میری وہ مکمل نہیں ہونے دیتے
دلشاد نسیم
No comments:
Post a Comment