ذات میری جب اس ذات سے ملی
آگہی اس دن میری اوقات سے ملی
وہ مجھ کو رب سے مانگا کرتا تھا
میں پھر اسے اس کی حاجات سے ملی
پونجی وفا کی کافی نہیں تھی ذادِ راہ
منزل تو اس کو ان گنت مناجات سے ملی
کھلتی کہاں اس پر میرے دل کی بات
وہ پیار میں نہیں ملی، شکایات سے ملی
خود سری تھی یا وہ میرا خود سے پیار تھا
مجھ کو میری محبت، خواہشات سے ملی
راحیلہ بیگ چغتائی
No comments:
Post a Comment