Thursday, 10 December 2020

ذات میری جب اس ذات سے ملی

 ذات میری جب اس ذات سے ملی

آگہی اس دن میری اوقات سے ملی

وہ مجھ کو رب سے مانگا کرتا تھا

میں پھر اسے اس کی حاجات سے ملی

پونجی وفا کی کافی نہیں تھی ذادِ راہ

منزل تو اس کو ان گنت مناجات سے ملی

کھلتی کہاں اس پر میرے دل کی بات

وہ پیار میں نہیں ملی، شکایات سے ملی

خود سری تھی یا وہ میرا خود سے پیار تھا

مجھ کو میری محبت، خواہشات سے ملی


راحیلہ بیگ چغتائی

No comments:

Post a Comment