Wednesday, 9 December 2020

یہ بتاتے رکوں گا آج نہیں

یہ بتاتے رکوں گا آج نہیں

بِن تِرے کوئی بھی علاج نہیں

خوش نصیبی ہے میری، میرے سوا

تیرے دل پر کسی کا راج نہیں

ایک دوجے کی ہم ضرورت ہیں

یہ سمجھتا مگر سماج نہیں

چاہتیں چھوڑ دوں بھلا کیسے

معذرت! یہ مِرا مزاج نہیں

جُز محبت کے اب مجھے یوسف

اِن دنوں کوئی کام کاج نہیں


یوسف عابدی

No comments:

Post a Comment