یہ بات صاف حقیقت ہے کوئی راز نہیں
کسی بھی دور میں شاعر زمانہ ساز نہیں
میں بندگی کے مفاہیم یوں سمجھتا ہوں
نماز میں ہوں اگر میں تو پھر نماز نہیں
بدلتی رُت نے مزاجوں کو بھی بدل ڈالا
ہر ایک شخص ہے محمود اور ایاز نہیں
اب ایسی قوم کا انجام تو خدا جانے
کہ جس میں اچھے برے کا بھی امتیاز نہیں
تمہارا عشق مِرے واسطے مصیبت ہے
تمہارے حسن سے بھی مجھ کو احتراز نہیں
مِرے خدا تِرے وعدے کو کیا کریں ہم لوگ
ربابِ ہستی میں نغمہ نہیں ہے ساز نہیں
یہ موت قتل ہے یہ خود کشی نہیں ہے عدید
کہ ایسے دور میں جینے کا تو جواز نہیں
سید عدید
No comments:
Post a Comment