Friday, 1 October 2021

جز ترے ساتھ ہمارا نہیں دیتا کوئی

 جُز تِرے ساتھ ہمارا نہیں دیتا کوئی

میں نہ کہتا تھا کہ یارا نہیں دیتا کوئی

مانگنے والے کو خیرات تو مل جاتی ہے

اپنی قسمت کا ستارہ نہیں دیتا کوئی

لوگ نظارے کو ساحل سے کھڑے تکتے ہیں

ڈوبنے والے سہارہ نہیں دیتا کوئی

اب نہ وہ غمزہ و غماز، نہ عشوہ، نہ ادا

اب محبت کا اشارہ نہیں دیتا کوئی

آنکھ بہتی ہے تو بہتی ہی چلی جاتی ہے

دل کے دریا کو کنارہ نہیں دیتا کوئی

درد اور پیار کو مل بانٹ کے جی لیتے ہیں

یہ اثاثہ کبھی سارا نہیں دیتا کوئی

تم منافع میں شراکت کے طلبگار، یہاں

اپنے حصے کا خسارہ نہیں دیتا کوئی

جسم سے روح تلک اب کے اتر جاؤ عدید

ایسا موقع تو دوبارہ نہیں دیتا کوئی


سید عدید

No comments:

Post a Comment