میرے ہونٹوں پہ تیرے نام کی لرزش تو نہیں
یہ جو آنکھوں میں چمک ہے کوئی خواہش تو نہیں
رنگ ملبوس ہوئے، لمس ہوئی ہے خوشبو
آج پھر شہر میں پھولوں کی نمائش تو نہیں
ایک ہی سانس میں دہرائے چلے جاتے ہیں
دیکھتا رہتا ہوں، چپ چاپ گزرتے بادل
یہ تعلق بھی کوئی دھوپ کی بارش تو نہیں
تم کبھی ایک نظر میری طرف بھی دیکھو
اک توقع ہی تو ہے کوئی گزارش تو نہیں
مل بھی جائیں کہیں آنکھیں تو مرمت نہ کریں
ہم میں ایسی کوئی تلخی کوئی رنجش تو نہیں
فاضل جمیلی
No comments:
Post a Comment