Monday, 20 July 2020

یہ محبت کہیں الفاظ کی ورزش تو نہیں

میرے ہونٹوں پہ تیرے نام کی لرزش تو نہیں 
یہ جو آنکھوں میں چمک ہے کوئی خواہش تو نہیں 
رنگ ملبوس ہوئے، لمس ہوئی ہے خوشبو 
آج پھر شہر میں پھولوں کی نمائش تو نہیں 
ایک ہی سانس میں دہرائے چلے جاتے ہیں 
یہ محبت کہیں الفاظ کی ورزش تو نہیں 
دیکھتا رہتا ہوں، چپ چاپ گزرتے بادل
یہ تعلق بھی کوئی دھوپ کی بارش تو نہیں
تم کبھی ایک نظر میری طرف بھی دیکھو 
اک توقع ہی تو ہے کوئی گزارش تو نہیں 
مل بھی جائیں کہیں آنکھیں تو مرمت نہ کریں
ہم میں ایسی کوئی تلخی کوئی رنجش تو نہیں 

فاضل جمیلی 

No comments:

Post a Comment