Monday, 20 July 2020

اب تو اشکوں کی روانی میں نہ رکھی جائے

اب تو اشکوں کی روانی میں نہ رکھی جائے 
اس کی تصویر ہے پانی میں نہ رکھی جائے 
ایک ہی دل میں ٹھہر جائیں ہمیشہ کے لیے 
زندگی" نقل "مکانی" میں نہ رکھی جائے" 
زندہ رکھنا ہو محبت میں جو "کردار" مِرا 
ساعتِ وصل کہانی میں نہ رکھی جائے 
یوں تو ملتے ہیں سبھی لوگ بچھڑنے کے لئے 
ناگہانی یہ "جوانی" میں نہ رکھی جائے 
بھول جانا ہے تو اے دوست بھلا دے مجھ کو
یاد" اب "یاد دہانی" میں نہ رکھی جائے" 
دل بھی تھوڑا سا سبک دوشِ تمنا کر دے
کچھ طبیعت بھی گِرانی میں نہ رکھی جائے 

فاضل جمیلی

No comments:

Post a Comment