زخمی جگر کو دیکھنے وہ گھر میں آ گیا
کیا خوب یہ کمال ستمگر میں آ گیا
میخوار کیا پئیں گے تری مے کو ساقیا
عکس جمال یار جو ساغر میں آ گیا
دانا سمجھ رہا تھا بہت خود کو میں مگر
اس نے کئے سوال تو چکر میں آ گیا
وہ کون تھا جو میری عیادت کے واسطے
”دستک دیئے بغیر مرے گھر میں آ گیا“
رکھیں گے ہم وہاں بھی بھرم اس کا دوستو
وہ بے وفا جو سامنے محشر میں آ گیا
منصف نے میرے حق میں کیا فیصلہ مگر
کشتی جلا کے جب میں سمندر میں آ گیا
وہ ساتھ لے کے جائے گا اعجاز کیا بھلا
اتنا غرور کیوں یہ تونگر میں آ گیا
اعجاز قریشی
No comments:
Post a Comment