Friday, 20 November 2020

زخمی جگر کو دیکھنے وہ گھر میں آ گیا

 زخمی جگر کو دیکھنے وہ گھر میں آ گیا

کیا خوب یہ کمال ستمگر میں آ گیا

میخوار کیا پئیں گے تری مے کو ساقیا

عکس جمال یار جو ساغر میں آ گیا

دانا سمجھ رہا تھا بہت خود کو میں مگر

اس نے کئے سوال تو چکر میں آ گیا

وہ کون تھا جو میری عیادت کے واسطے

”دستک دیئے بغیر مرے گھر میں آ گیا“

رکھیں گے ہم وہاں بھی بھرم اس کا دوستو

وہ بے وفا جو سامنے محشر میں آ گیا

منصف نے میرے حق میں کیا فیصلہ مگر

کشتی جلا کے جب میں سمندر میں آ گیا

وہ ساتھ لے کے جائے گا اعجاز کیا بھلا

اتنا غرور کیوں یہ تونگر میں آ گیا


اعجاز قریشی

No comments:

Post a Comment