اب میں تصویر میں ہوں بات نہیں کر سکتا
بے نوا ہوں کہ سوالات نہیں کر سکتا
شہرِ امکاں سے گزرنا ہے اکیلی جاں کو
ٹھہر سکتا نہیں، میں رات نہیں کر سکتا
میرے مرنے پہ بھی شک ہے تو بھلا ہو تیرا
زندگی! اور کرامات نہیں کر سکتا
آخری دن ہے، تیرے شہر میں میرا اور میں
آخری بار ملاقات نہیں کر سکتا
جس کو خود اڑ کے گزر جانے کی جلدی ہو بہت
ایسا بادل کوئی برسات نہیں کر سکتا
رات آنے پہ ہی موقوف ہے گر وصل، تو پھر
کوئی اس دن کو کبھی رات نہیں کر سکتا
وہ جو ایک دورِ جنوں تھا، وہ گیا، عمر گئی
خط میں اب ویسی کوئی بات نہیں کر سکتا
راز داروں میں میرے ایک فقط تو ہی تو ہے
اور عیاں تجھ پہ بھی جذبات نہیں کر سکتا
میں بھی انسان ہوں، انسان بھی ناطق آزاد
عاجزی مثلِ نباتات نہیں کر سکتا
سہیل آزاد
No comments:
Post a Comment