سنو غریبو
سنو کبھی تم
امیر ہونے کا سوچنا مت
یہ مال و دولت بلند و بالا عمارتیں اور گہنے شہنے
بہت برے ہیں
تم ان سے دوری بنائے رکھنا
قسم خدا کی بہت بُرے ہیں یہ لگژری گھر
یہ عیش و عشرت یہ فارم ہاؤسز یہ گاڑیاں بھی
تم ان سے دُوری بنائے رکھنا
سنو غریبو
تمہاری ہستی سے ہم امیروں
کلاہ داروں کی زندگی ہے
جو تم نہ ہو گے تو ہم سخاوت کریں گے کیسے
ہم اپنے بچوں کا صدقہ کس کو کھلا سکیں گے
ہم اپنے سر کی بلائیں کیسے بھگا سکیں گے
ہم اپنے بَڑھیا ٹرسٹ کیسے چلا سکیں گے
ہم اپنے جلسوں میں نعرے کیسے لگا سکیں گے
تمہاری غربت ہمارے محلوں کی زندگی ہے
سنو غریبو
جو تم نہ ہو گے
تو روٹی کپڑا مکان دینے کی بات کیسے بیان ہو گی
جو تم نہ ہو گے
تو کس کی تقدیر کو بدلنے کی بھر سکیں گے اڑان دعوے
جو تم نہ ہو گے
تو ہم امارت کا رعب کس پر جما سکیں گے
سنو غریبو
تمہاری غربت میں ہی چھپی ہے بقا ہماری
سو تم امیری کا خواب دل سے نکال پھینکو
یقین جانو کہ ہم سبھی نے
تمہاری خاطر دیا ہے دھرنا
تمہاری خاطر تمام جلسے
تمہارے خادم ہیں ہم تو دیکھو
تمہاری خاطر ہی ہم سبھی نے علم اٹھائے
تمہارا بھی تو ہے فرض کوئی
تو فرض اپنا نبھاؤ مل کر
چلو قسم یہ اٹھاؤ مل کر
غریب ہیں ہم، غریب ہیں ہم
غلام ہیں ہم، غلام ہیں ہم
غریب ابنِ غریب بن کر
غلام ابنِ غلام بن کر
یہاں رہیں گے یہاں رہیں گے
احمد نعیم ارشد
No comments:
Post a Comment