Sunday, 11 July 2021

ایسی تھی آگ وقت کی رشتے بھی جل گئے

 ایسی تھی آگ وقت کی رشتے بھی جل گئے

آبائی رکھ رکھاؤ کے قصے بھی جل گئے

جسموں میں کھولتا ہی رہا آگہی کا خون

تپتے ہوئے خیال میں لہجے بھی جل گئے

گہری ریاضتوں سے میں سورج نما ہوا

پھر یوں ہوا کہ خون کے رشتے بھی چل گئے

وہ کیا گیا کہ چار سُو چنگاریاں ہیں اب

اوراق پر سجے ہوئے سپنے بھی جل گئے

تلخی بھرے مزاج سے چاہت جُھلس گئی

اپنوں سے اب ملاپ کے جذبے بھی جل گئے


فرحان وارثی

No comments:

Post a Comment