Sunday, 11 July 2021

غم چھپانے میں وقت لگتا ہے

غم چُھپانے میں وقت لگتا ہے

مُسکرانے میں وقت لگتا ہے

رُوٹھ جانے کا کوئی وقت نہیں

پر منانے میں وقت لگتا ہے

ضد کا بستر سمیٹیۓ دلبر

گھر بسانے میں وقت لگتا ہے

جا کے آنے کی بات مت کیجے

جانے آنے میں وقت لگتا ہے

آزما مت، بھروسہ کر مجھ پر

آزمانے میں وقت لگتا ہے

یک بیک بُھولنا ہے نا ممکن

بُھول جانے میں وقت لگتا ہے

وہ ابھی بن سنور رہی ہو گی

اس کو آنے میں وقت لگتا ہے

جام پیتے ہیں جو نظر سے انہیں

جام اُٹھانے میں وقت لگتا ہے

بیٹیوں کو بچا کے رکھیۓ کنول

ان کو پانے میں وقت لگتا ہے


رمیش کنول

No comments:

Post a Comment