Sunday, 11 July 2021

بڑھ رہے ہیں شام کے موہوم سائے چل پڑو

 بڑھ رہے ہیں شام کے موہوم سائے چل پڑو

زندگی کی لاش کاندھوں پر اٹھائے چل پڑو

خیر مقدم کر رہی ہیں ٹھوکریں کس شان سے

پاؤں کے چھالے یہ کہہ کر مسکرائے چل پڑو

اوڑھ لو سر پر دُکانوں، دفتروں کے سائباں

جان لیوا ہیں مکانوں کے کرائے، چل پڑو

پھر قدومِ شوق کو چُھونے لگی آوارگی

پھر بلاوے کوچۂ جاناں سے آئے چل پڑو

آج ٹوٹی ہے لب احساس سے مہر سکوت

آج تنہائی نے تلوے گدگدائے چل پڑو

مڑ کے مت دیکھو زمانے کو کہ بت بن جاؤ گے

آنکھ میچے ہاتھ باندھے سر جُھکائے چل پڑو

وقت کے صحرا میں ننگے پاؤں ٹھہرے ہو سلیم

دھوپ کی شدت یکایک بڑھ نہ جائے چل پڑو


سردار سلیم

No comments:

Post a Comment