Monday, 12 July 2021

عتاب و قہر کا ہر اک نشان بولے گا

 عتاب و قہر کا ہر اک نشان بولے گا

میں چپ رہا تو شکستہ مکان بولے گا

ابھی ہجوم ہے اس کو جلوس بننے دے

تِرے خلاف ہر اک بے زبان بولے گا

ہماری چیخ کبھی بے اثر نہیں ہو گی

زمیں خموش سہی آسمان بولے گا

جو تم ثبوت نہ دو گے عذاب کے دن کا

گواہ بن کے یہ سارا جہان بولے گا

کبھی تو آئے گا وہ وقت بھی ذکی طارق

یقین بن کے ہمارا گمان بولے گا


ذکی طارق

No comments:

Post a Comment