Monday, 12 July 2021

کبھی کبھی یوں کیوں ہوتا ہے

 کبھی کبھی یوں کیوں ہوتا ہے؟


چہرہ کوئی ہوتا ہے

پر اور کسی چہرے کا گماں گزرتا ہے

پھر چند لمحوں کی خاطر

ہم ارد گرد سے کٹ جاتے ہیں

یادوں کے خوشرنگ جہانوں میں

بٹ جاتے ہیں

نہ موسم ہوش کا ہوتا ہے

نہ لہر جنوں کی ہوتی ہے

کبھی کبھی یوں کیوں ہوتا ہے؟


جبار جمیل

No comments:

Post a Comment