تڑپ، چاہت، لگن، دُھن اور جذبہ ہم بھی رکھتے ہیں
ستارے توڑ لانے کی تمنا ہم بھی رکھتے ہیں
تِرے الطاف کی امید مولا ہم بھی رکھتے ہیں
کہ پیشانی پہ نورِ نقشِ سجدہ ہم بھی رکھتے ہیں
تمہاری نرگسی آنکھوں کو دیکھا تو ہوا ظاہر
کہ دل ہی دل میں شغلِ جام و مینا ہم بھی رکھتے ہیں
ہوئے تم غاصبِ آب اور ہم ہیں پیاس کے عامر
بقدرِمشترک دریا سے رِشتہ ہم بھی رکھتے ہیں
فقط اپنے تبسم سے ذرا سا حوصلہ دے دو
تمہیں اک بار چھُونے کی تمنا ہم بھی رکھتے ہیں
غموں کی دھوپ اگرچہ ہے بہت ہی سخت و جاں لیوا
تو سر پہ سائباں ماں کی دعا کا ہم بھی رکھتے ہیں
فقط تم ہی نہیں گلشن کے تنہا وارث و مالک
چمن کے ایک اک پتے پہ دعویٰ ہم بھی رکھتے ہیں
ہمیں بھی اے خدا اک چاہنے والا عطا کر دے
کسی سے پیار کرنے کا ارادہ ہم بھی رکھتے ہیں
ذکی طارق
No comments:
Post a Comment