کر کے فریاد شب و روز ہیں ہارے آنسو
کس کو فرصت ہے کہ پلکوں سے اتارے آنسو
دشتِ تنہائی میں منزل جو دکھا دیتے ہیں
ان کے رخسار پہ لگتے ہیں ستارے آنسو
پیاس جسموں کی ہمارے نہ بجھی کیوں اب تک
روز آئینے سے پوچھیں یہ کنوارے آنسو
ساری دھرتی کو جزیروں میں بدل ڈالیں گے
مل کے بیٹھے جو کسی روز یہ سارے آنسو
دل کو حالات کہیں اور نہ پتھر کر دیں
کاش لوٹا دے کوئی ہم کو ہمارے آنسو
ایک مدت سے کنارے پہ نہیں وہ اترا
جس کی فرقت میں بہاتے ہیں شکارے آنسو
بے دلی سے بھی جو مانوس نے کھینچا دامن
کس کے گھر جائیں گے یہ درد کے مارے آنسو
پرویز مانوس
No comments:
Post a Comment