سنو کچھ دیر دریا کے کنارے بیٹھ جاؤ
بجھائیں پیاس یہ قسمت کے مارے بیٹھ جاؤ
سکوں پا جائیں گی لمحوں میں یہ موجیں تڑپتی
جو چُھو لیں پاؤں یہ نازک تمہارے، بیٹھ جاؤ
یہ پنچھی، پھول، بادل، رنگ، موسم حسرتوں سے
تمہیں ہیں دیکھتے کب سے یہ سارے بیٹھ جاؤ
یہی ہے آرزو لہروں کی شاید آج پھر سے
ملیں تنہائی میں دو دل کنوارے بیٹھ جاؤ
اندھیری رات میں جگنو یہی کہتے ہیں تم سے
تِرے دامن پہ ٹانکیں گے ستارے بیٹھ جاؤ
ملائے پھول دو ٹہنی پہ اس نے، دیکھ کر یہ
سمجھ لو ان ہواؤں کے اشارے بیٹھ جاؤ
شفق پھر سے سمانے جھیل کی آغوش میں ہے
دکھاؤں میں تمہیں دلکش نظارے بیٹھ جاؤ
تمہارا لمس پانے کے لیے بے تاب ہیں یہ
سبھی ہیں ملتمس خالی شکارے، بیٹھ جاؤ
ترا معصوم چہرہ رحل سے تکتا ہے مجھ کو
پڑھوں گا رفتہ رفتہ سب سپارے، بیٹھ جاؤ
پرویز مانوس
No comments:
Post a Comment