تم نے سیکھا سیاستیں کرنا
ہم سے پوچھو محبتیں کرنا
تیری فطرت ہے تتلیوں جیسی
شاخِ گل پر شرارتیں کرنا
کیا عدالت یہی ہے سورج کی
تیرگی کی وکالتیں کرنا
تیرا مسکن گلاب ہے، خوشبو
پھول سے اب نہ ہجرتیں کرنا
صبح تک جلنا پے چراغ اگر
آندھیوں سے رقابتں کرنا
ان پرندوں کی ایک عادت تھی
گھونسلے میں عبادتیں کرنا
چشمِ گریہ فقیر کی پڑھنا
یاد ہیں وہ تلاوتیں کرنا
اشرف عادل
No comments:
Post a Comment