Saturday, 12 June 2021

تم نے سیکھا سیاستیں کرنا

 تم نے سیکھا سیاستیں کرنا 

ہم سے پوچھو محبتیں کرنا 

تیری فطرت ہے تتلیوں جیسی 

شاخِ گل پر شرارتیں کرنا 

کیا عدالت یہی ہے سورج کی 

تیرگی کی وکالتیں کرنا 

تیرا مسکن گلاب ہے، خوشبو 

پھول سے اب نہ ہجرتیں کرنا 

صبح تک جلنا پے چراغ اگر 

آندھیوں سے رقابتں کرنا 

ان پرندوں کی ایک عادت تھی 

گھونسلے میں عبادتیں کرنا 

چشمِ گریہ فقیر کی پڑھنا 

یاد ہیں وہ تلاوتیں کرنا 

 

اشرف عادل

No comments:

Post a Comment