عارفانہ کلام نعتیہ کلام
میں فکر مند نہیں قبرِ پُر سیہ کے لیے
ہے نورِ عشقِ محمدﷺ بہت ضیا کے لیے
بہشت کی ہے تمنا تو جا رسولؐ کے پاس
بہشت وقف ہے سردارِ انبیاءﷺ کے لیے
قسم خدا کی یہ تخلیق کائنات ہوئی
مِرے رسولِؐ مکرم کی اقتداء کے لیے
وہ ایک رات کہ دونوں تھے بیقرار بہت
خدا نبیؐ کے لیے، اور نبیؐ خدا کے لیے
بلا لو مجھ کو مدینہ مِرے رسولِ کریمؐ
ہوں بے قرار بہت شہرِ دلربا کے لیے
مِرے رسولؐ کے دامن کو چھوڑنے والے
قسم خدا کی ترس جائیں گے خدا کے لیے
ادا جو کر سکیں حق آپؐ کی فضیلت کا
کہاں سے لائیں وہ الفاظ ہم ثناء کے لیے
ذکی! عقیدہ و مسلک کا ذکر کیا ہے بھلا
یہ جان و دل مِرے قرباں ہیں مصطفٰیؐ کے لیے
ذکی طارق
No comments:
Post a Comment