Friday, 3 December 2021

عشق نے جب بھی کسی دل پہ حکومت کی ہے

 عشق نے جب بھی کسی دل پہ حکومت کی ہے

تو اسے درد کی معراج عنایت کی ہے 

اپنی تائید پہ خود عقل بھی حیران ہوئی 

دل نے ایسے مِرے خوابوں کی حمایت کی ہے

شہرِ احساس تِری یاد سے روشن کر کے

میں نے ہر گھر میں تِرے ذکر کی جرأت کی ہے

 مجھ کو لگتا ہے انسان ادھورا ہے ابھی

تُو نے دنیا میں اسے بھیج کے عجلت کی ہے

سوچتا ہوں کہ میں ایسے میں کدھر کو جاؤں 

تیرا ملنا بھی کٹھن، یاد بھی شدت کی ہے 

یہ جو بکھری ہوئی لاشیں ہیں ورق پر جواد

یہ مِرے ضبط سے لفظوں نے بغاوت کی ہے


جواد شیخ

No comments:

Post a Comment