Friday, 3 December 2021

یہ کون میری تشنگی بڑھا بڑھا کے چل دیا

 یہ کون میری تشنگی بڑھا بڑھا کے چل دیا

کہ لو چراغ درد کی بڑھا بڑھا کے چل دیا

یہ میرا دل ہی جانتا ہے کتنا سنگدل ہے وہ

کہ مجھ سے اپنی دوستی بڑھا بڑھا کے چل دیا

بچھڑ کے اس سے زندگی وبال جان ہو گئی

وہ دل میں شوق خودکشی بڑھا بڑھا کے چل دیا

کروں تو اب میں کس سے اپنی وسعتِ نظر کی بات

وہ مجھ میں حسِ آگہی بڑھا بڑھا کے چل دیا

نہ دید کی امید اب، نہ لطفِ نغمۂ وصال

کہ لے وہ سازِ ہجر کی بڑھا بڑھا کے چل دیا

وہ آیا اکبر اس ادا سے آج میرے سامنے

کہ اک جھلک سی خواب کی دکھا دکھا کے چل دیا


اکبر حیدرآبادی

No comments:

Post a Comment