Friday, 3 December 2021

سمجھ کے حور بڑے ناز سے لگائی چوٹ

 سمجھ کے حور بڑے ناز سے لگائی چوٹ

جو اس نے آئینہ دیکھا تو خود ہی کھائی چوٹ

نظر لڑی جو نظر سے تو دل پر آئی چوٹ 

گرے کلیم سرِ طور ایسی کھائی چوٹ 

بڑے دماغ سے مارا نظر سے جب مارا 

بڑے غرور سے آئی جو دل پر آئی چوٹ 

ابھی اٹھی نہ تھی نیچی نگاہ ظالم کی 

تڑپ کے دل نے کہا وہ جگر پہ آئی چوٹ 

جو آئے حشر میں وہ سب کو مارتے آئے 

جدھر نگاہ پھری، چوٹ پر لگائی چوٹ 

جو دل کا آئینہ مل مل کے ہم نے صاف کیا

پھسل پھسل کے تمہاری نظر نے کھائی چوٹ

کلف نہیں ہے نشاں ہے یہ چاند ماری کا

ہمارے چاند نے لو چاند پر لگائی چوٹ

اٹھے تڑپ کے اٹھے تو گرے گرے تو مرے 

پھڑک کے رہ گئے وہ چوٹ پر لگائی چوٹ 

پڑے گی آہ جو میری کھلیں گے بندِ قبا 

شبِ وصال کرے گی گرہ کشائی چوٹ 

نگاہِ شوخ سے جس دم نگاہِ شوق لڑی 

بڑا ہی لطف رہا، یہ گئی وہ آئی چوٹ 

لگائی اس نے جو ٹھوکر تو جی اٹھا مائل

نکل کے جان پھر آئی کچھ ایسی کھائی چوٹ  


احمد حسین مائل

No comments:

Post a Comment