سمجھ کے حور بڑے ناز سے لگائی چوٹ
جو اس نے آئینہ دیکھا تو خود ہی کھائی چوٹ
نظر لڑی جو نظر سے تو دل پر آئی چوٹ
گرے کلیم سرِ طور ایسی کھائی چوٹ
بڑے دماغ سے مارا نظر سے جب مارا
بڑے غرور سے آئی جو دل پر آئی چوٹ
ابھی اٹھی نہ تھی نیچی نگاہ ظالم کی
تڑپ کے دل نے کہا وہ جگر پہ آئی چوٹ
جو آئے حشر میں وہ سب کو مارتے آئے
جدھر نگاہ پھری، چوٹ پر لگائی چوٹ
جو دل کا آئینہ مل مل کے ہم نے صاف کیا
پھسل پھسل کے تمہاری نظر نے کھائی چوٹ
کلف نہیں ہے نشاں ہے یہ چاند ماری کا
ہمارے چاند نے لو چاند پر لگائی چوٹ
اٹھے تڑپ کے اٹھے تو گرے گرے تو مرے
پھڑک کے رہ گئے وہ چوٹ پر لگائی چوٹ
پڑے گی آہ جو میری کھلیں گے بندِ قبا
شبِ وصال کرے گی گرہ کشائی چوٹ
نگاہِ شوخ سے جس دم نگاہِ شوق لڑی
بڑا ہی لطف رہا، یہ گئی وہ آئی چوٹ
لگائی اس نے جو ٹھوکر تو جی اٹھا مائل
نکل کے جان پھر آئی کچھ ایسی کھائی چوٹ
احمد حسین مائل
No comments:
Post a Comment