Wednesday, 2 November 2016

ایک تصویر کہ اول نہیں دیکھی جاتی

ایک تصویر کہ اول نہیں دیکھی جاتی 
دیکھ بھی لوں تو مسلسل نہیں دیکھی جاتی 
دیکھی جاتی ہے محبت میں ہر اک جنبشِ دل 
صرف سانسوں کی ریہرسل نہیں دیکھی جاتی 
اک تو ویسے بڑی تاریک ہے خواہش نگری 
پھر طویل اتنی کہ پیدل نہیں دیکھی جاتی 
ایسا کچھ ہے بھی نہیں جس سے تجھے بہلاؤں 
یہ اداسی بھی مسلسل نہیں دیکھی جاتی 
میں نے اک عمر سے بٹوے میں سنبھالی ہوئی ہے
وہی تصویر جو اک پل نہیں دیکھی جاتی 
اب میرا دھیان کہیں اور چلا جاتا ہے 
اب کوئی فلم مکمل نہیں دیکھی جاتی 
اک مقام ایسا بھی آتا ہے سفر میں جوادؔ 
سامنے ہو بھی تو دلدل نہیں دیکھی جاتی

جواد شیخ

No comments:

Post a Comment